اسلامی نظریاتی کونسل

Paigham-e-Paksitan

موضوع: آئینِ پاکستان 1973ء کے باب نمبر 1 کے تحت ہمارے بنیادی مذہبی حقوق کے تعین اور اعلانیہ وضاحت کے لیے درخواست

باادب گزارش ہے کہ:

1۔ یہ کہ درخواست گزار کا نام حامد ریاض صاحب ہے، جو ہمارے روحانی رہنما (مرشد پاک) حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کے حقیقی فرزند ہیں۔ درخواست گزار انجمن سرفروشانِ اسلام 1975 رجسٹرڈ پاکستان کی سپریم کونسل کے چیئرمین بھی ہیں۔

2۔ یہ کہ ہم پاکستان میں پیدا ہوئے، پاکستان سے محبت کرتے ہیں، پاکستان کے شہری ہیں، قانون کی پابندی کرنے والے شہری ہیں، ہماری تمام سرگرمیاں، اعمال اور ردِعمل ملکی قوانین کے مطابق ہیں اور ہمیں پاکستانی ہونے پر فخر ہے۔

3۔ مکتبۂ فکر (سنی مکتبۂ فقر)

ہم اسلام کے پانچ ارکان پر ایمان رکھتے ہیں۔ نماز پر ایمان رکھتے ہیں اور سنت کے مطابق نماز ادا کرتے ہیں۔

4۔ عقیدہ

ہمارا عقیدہ سنی بریلوی ہے۔ ہم قرآن و سنت پر ایمان رکھتے ہیں اور امام احمد رضا خان بریلوی رحمۃ اللہ علیہ کی تشریحات و تعلیمات کے مطابق اسلام کے پانچ ارکان پر عمل کرتے ہیں۔

ہم ہر ماہ اور سالانہ بنیاد پر 12 ربیع الاول میلاد النبی ﷺ کی محافل و پروگرام منعقد کرتے ہیں، اسی طرح 11ویں شریف، حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کے پروگرام بھی منعقد کرتے ہیں۔

ہمارا عقیدہ صوفیائے کرام کی تعلیمات کے مطابق ہے۔ ہم ایمانِ مفصل اور ایمانِ مجمل پر ایمان رکھتے ہیں، چھ کلموں پر ایمان رکھتے ہیں، تمام صحابۂ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا ایمان اور احترام کرتے ہیں، اہلِ بیت اطہار سے محبت رکھتے ہیں، اہلِ بیت کے بارہ ائمہ پر ایمان رکھتے ہیں، غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ پر ایمان و عقیدت رکھتے ہیں، اور تمام صوفیائے کرام سے محبت و احترام کرتے ہیں۔ تمام صوفیائے کرام ہمارے لیے روحانی اثاثہ اور سرمایہ ہیں۔

5۔ فقہ

ہماری فقہ حنفی ہے اور ہماری نماز، نماز ادا کرنے کا طریقہ، نیز اسلامی عائلی قوانین، مثلاً نکاح، طلاق وغیرہ، فقہِ حنفی کے مطابق ہیں۔

6۔ روحانی سلسلہ

قادری سلسلہ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ سے منسلک ہے اور حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اور فیوض و برکات کو عام کرتا ہے۔

ہمارا نظامِ روحانی فیض حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کے طریقۂ فیض کے مطابق ہے۔ ہماری تعلیمات، نظریات اور روحانی عقائد حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات کے مطابق ہیں۔

7۔ ختمِ نبوت

درخواست گزار کا ختمِ نبوت پر مضبوط اور پختہ ایمان ہے۔ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے بعد جو شخص نبوت کا دعویٰ کرے، وہ کافر ہے۔ ختمِ نبوت کے معاملے میں کسی قسم کی کوئی مفاہمت یا نرمی کی گنجائش نہیں۔

میرے مرشد پاک کے فرزند، محترم حامد ریاض بھی ختمِ نبوت کے عقیدے کے فروغ اور تحفظ کے لیے کام کر رہے ہیں۔ وہ ’’عقیدہ ختمِ نبوت‘‘ کے عنوان سے ایک کتاب کے مصنف بھی ہیں، جو اس درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔

8۔ ہمارے عقائد و تعلیمات کے ترجمان و روحانی رہنما

ہمارے ایمان، عقائد، نظریات اور تعلیمات کے حوالے سے درج ذیل اکابر و بزرگانِ دین ہمارے لیے قابلِ احترام اور رہنما ہیں:

1۔ اہلِ بیت اطہار کے بارہ ائمہ
2۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رحمۃ اللہ علیہ
3۔ حضرت سخی سلطان باہو رحمۃ اللہ علیہ
4۔ حضرت علامہ محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ
5۔ حضرت نور محمد قولاچوی رحمۃ اللہ علیہ
6۔ تمام صوفیائے کرام

9۔ ذکرِ الٰہی کا ہمارا طریقہ

ہمارا طریقۂ ذکر اور ذکرِ اللہ اس درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔

10۔ ہمارے اوراد و وظائف

ہمارے اوراد و وظائف بھی اس درخواست کے ساتھ منسلک ہیں۔

11۔ امام مہدی کا تصور

یہ کہ میرے والد حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ امام مہدی ہیں۔ انہوں نے صرف حقیقی امام مہدی کی علامات و نشانیاں بیان اور واضح کیں۔

میرے والد پر یہ الزام کہ انہوں نے خود کو امام مہدی قرار دیا، سراسر غلط اور بے بنیاد الزام ہے۔ میں، بحیثیت فرزندِ حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ، اس جھوٹے الزام کی سختی سے مذمت کرتا ہوں۔

یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ درخواست گزار، مذکورہ تنظیم اور مرشد پاک کے صاحبزادگان کا یونس ملعون سے کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ یونس ملعون پر میرے والد کو زہر دے کر قتل کرنے میں ملوث ہونے کا الزام ہے اور وہ میرے والد کا حقیقی دشمن ہے۔ ہم سب یونس ملعون پر لعنت کرتے ہیں۔

یونس سے لاتعلقی کا ہمارا اعلان ان کتب اور کتابچوں میں درج ہے جو اس درخواست کے ساتھ بطورِ دستاویز منسلک ہیں۔

12۔ حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اور کتب

حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کی تعلیمات اور کتب ہماری سرکاری ویب سائٹس پر دستیاب ہیں:

www.sufisaint.com
www.sarfrosh.org

Facebook:
facebook.com/goharshahi.official
facebook.com/sarfrosh1975

دعا / استدعا

مندرجہ بالا حالات و واقعات کی روشنی میں مؤدبانہ استدعا ہے کہ ہمارے بنیادی مذہبی حقوق کا تعین، اقرار اور واضح اعلان فرمایا جائے اور عوام الناس کے لیے اس سلسلے میں مناسب رائے/وضاحت جاری فرمائی جائے، تاکہ ہمارے بنیادی مذہبی حقوق کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے اور انصاف کے تقاضے پورے ہوں۔

:درخواست گزار

حماد ریاض

محمد ذُہیب ایڈووکیٹ ہائی کورٹ


مرکزی وفد کی اسلامی نظریاتی کونسل سے اسلام آباد میں تفصیلی ملاقات

Similar Posts

  • حضرت عیسیٰؑ سے حضرت گوہر شاہیؒ کی ملاقات

    وضاحتی بیان (بحوالہ: حضرت عیسیٰؑ سے حضرت گوہر شاہیؒ کی ملاقات) حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ کے حوالے سے ایک بیان منظرِ عام پر آیا جس میں یہ ذکر کیا گیا کہ حضرت گوہر شاہیؒ کی ملاقات امریکہ میں ایک ہوٹل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔ اس بیان پر بعض علماء کی…

  • (بنیادی غلط فہمی:  پاروں کی تعداد)

    سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ: قرآنِ مجید کی ظاہری، مکتوب اور مدوَّن شکل میں پارے صرف 30 ہی ہیں۔اس پر امتِ مسلمہ، صحابہؓ، تابعینؒ، ائمۂ فقہ، محدثینؒ اور مفسرینؒ سب کا اجماع ہے۔حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرآن کو تلاوت کی سہولت کیلئے 30 حصوں (پاروں) میں تقسیم کیا گیا،…

  • دینِ الٰہی

    ### ﴿دینِ الٰہی﴾

    **بے بنیاد الزامات کے بعد مقدمہ خارج**

    مورخہ **22 اپریل 2000ء** کو حضرت سیدنا **ریاض احمد گوہر شاہیؒ** کی تصنیف **’’دینِ الٰہی‘‘** کے خلاف بعض حلقوں کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایک پرنٹنگ پریس پر چھاپہ مارا گیا اور **سخی پیر پولیس اسٹیشن** میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

    بعد ازاں معاملے کی عدالتی کارروائی میں دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، اور مورخہ **15 دسمبر 2003ء** کو **عدمِ ثبوت کی بنیاد پر مقدمہ خارج کر دیا گیا۔**

    یہ وضاحتی نوٹ عوام اور میڈیا کے سامنے اس معاملے کے قانونی ریکارڈ اور اصل پسِ منظر کو واضح کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ یکطرفہ یا غلط تاثر سے اجتناب کیا جا سکے۔

  • :کرشمہ قدرت

    چاند اور حجرِ اسود پر حضرت گوہر شاہیؒ کی تصاویر کے ظاہر ہونے کے حوالے سے سامنے آنے والے دعووں نے عوامی توجہ حاصل کی ہے اور ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ حضرت گوہر شاہیؒ کی تعلیماتِ محبتِ الٰہی، امن اور خدمتِ انسانیت نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور باہمی ہم آہنگی، رواداری اور احترام کی عملی مثال پیش کی۔ ان نشانیوں کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے پیشِ نظر، ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ ان معاملات کی غیر جانب دارانہ، شفاف اور جامع تحقیقات کروائی جائیں، تاکہ عوامی خدشات کا ازالہ ہو اور حقیقت کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔

  • یونس کے حوالے سے سرکاری عوامی وضاحت اور فراڈ سے متعلق انتباہ

    سرکاری عوامی وضاحت حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے غیر مجاز دعووں، نمائندگی اور استعمال کے حوالے سے اہم عوامی اطلاع فراڈ سے متعلق انتباہ اور عوامی اطلاع عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام پاکستان (1975 رجسٹرڈ) اور حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان…

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے