حضرت عیسیٰؑ سے حضرت گوہر شاہیؒ کی ملاقات

وضاحتی بیان

(بحوالہ: حضرت عیسیٰؑ سے حضرت گوہر شاہیؒ کی ملاقات)

حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ کے حوالے سے ایک بیان منظرِ عام پر آیا جس میں یہ ذکر کیا گیا کہ حضرت گوہر شاہیؒ کی ملاقات امریکہ میں ایک ہوٹل میں حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ہوئی۔ اس بیان پر بعض علماء کی جانب سے اعتراضات سامنے آئے، جن کی وضاحت نہایت ضروری ہے۔

حضرت گوہر شاہیؒ نے اپنے وضاحتی بیان میں واضح الفاظ میں فرمایا کہ بالکل حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے ملاقات ہوئی ہے اور اس میں شرعاً یا عقلاً کوئی حرج نہیں۔ ملاقات اور ظہور کے مفہوم کو خلط ملط کرنا درست نہیں۔

یہ بات روزِ روشن کی طرح واضح ہے کہ امتِ مسلمہ میں بے شمار افراد حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے ملاقات کے دعوے کرتے رہے ہیں، جن پر عمومی طور پر کوئی اعتراض نہیں کیا گیا، حالانکہ حضرت محمد ﷺ تمام انبیاء و رُسل سے افضل اور اعلیٰ ہیں۔ اسی طرح بعض اہلِ تصوف نے اللہ تعالیٰ سے ملاقات یا مشاہدۂ الٰہی کے بیانات بھی دیے، جنہیں اہلِ علم نے ملاقاتِ قلبی یا باطنی معانی میں سمجھا ہے۔

بعض معترضین کا کہنا ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا ظہور بیت المقدس یا خانۂ کعبہ میں ہوگا، تو پھر ہوٹل میں ملاقات کیسے ممکن ہے؟

اس اعتراض کا جواب حضرت گوہر شاہیؒ نے نہایت وضاحت کے ساتھ دیا کہ ہم نے ملاقات کا ذکر کیا ہے، ظہور کا نہیں۔ ملاقات ایک روحانی اور باطنی امر ہے، جبکہ ظہور ایک علانیہ اور عالمی واقعہ ہوگا، جس کا وقت اور مقام اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔

اللہ کے مقرب بندوں کی ملاقاتیں انبیاء، اولیاء اور مقدس ہستیوں سے کبھی باطنی طور پر اور کبھی باطنی تصرف کے ساتھ ظاہری صورت میں بھی ہو سکتی ہیں۔ یہ تصوف اور روحانیت کا ایک تسلیم شدہ تصور ہے، جسے محض ظاہری عقل کی بنیاد پر رد کرنا درست نہیں۔

لہٰذا اس بیان کو عقیدے یا شریعت کے خلاف قرار دینا محض مفہوم کی غلط فہمی اور ملاقات و ظہور کے فرق کو نہ سمجھنے کا نتیجہ ہے۔

(اس بابت   مورخہ 28 ستمبر 1997 کو دیا گیا انٹرویو ساتھ منسلک ہے)

BBC GMR RADIO UK

سوال:     کن حالات میں آپ کی حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات ہوئی؟

جواب:    امریکہ میں ایک ہوٹل میں رات کے وقت میں سو رہا تھا۔ میں تقریباً سو ہی گیا تھا کہ اتنے میں ایک شخص کمرے میں داخل ہوا۔ میں نے سمجھا کہ شاید میرا کوئی ساتھی ہے، اس لیے میں نے اس سے پوچھا کہ کون ہے۔ اس نے کہا کہ میں آپ سے ملاقات کے لیے آیا ہوں۔ جب میں نے لائٹ آن کی اور آنکھیں کھولیں تو سامنے ایک خوبصورت نوجوان کھڑا تھا۔ چونکہ اس سے پہلے بھی مجھے روحانی تجربات ہو چکے تھے، اس لیے میں فرق محسوس کر سکتا تھا۔ جب کوئی شیطانی چیز سامنے آتی تھی تو مجھے گھٹن محسوس ہوتی تھی، اور جب کوئی رحمانی چیز آتی تھی تو میرے اندر سے اللہ اللہ کی آوازیں تیز ہو جاتی تھیں۔

سوال:     کیا یہ روحانی ملاقات تھی یا جسمانی؟

جواب:    مجھے یہ جسمانی ہی محسوس ہوئی، کیونکہ جب میں نے آنکھیں کھولیں تو ان سے باقاعدہ گفتگو ہوئی۔ اس لیے مجھے یہی لگا کہ یہ ملاقات جسم کے ساتھ، سامنے موجود ہو کر ہوئی۔

سوال:     آپ کو کیسے معلوم ہوا کہ وہ حضرت عیسیٰؑ ہیں؟

جواب:    مجھے یہ اندازہ ہو گیا تھا کہ یہ کوئی روحانی شخصیت ہیں۔ جب میں نے پوچھا تو انہوں نے خود بتایا کہ میں عیسیٰؑ ابنِ مریم ہوں۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کہاں رہتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ پہلے بھی میرا کوئی مستقل ٹھکانہ نہیں تھا اور اب بھی نہیں ہے۔ پھر انہوں نے بتایا کہ میں کافی عرصے سے موجود ہوں اور جس طرح تم اللہ کی محبت کا کام کر رہے ہو، اسی طرح میں بھی ایک ٹیم تیار کر رہا ہوں۔ میں نے پوچھا کہ کیا آپ اپنے فادروں کے پاس بھی جاتے ہیں اور کیا انہیں اس کا علم ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ نہیں، ان میں روحانیت بہت کم ہے۔ البتہ چند لوگ ایسے ہیں عیسائیوں میں جنہوں نے کچھ روحانیت سیکھی ہے، ہمارا انہی سے تعلق ہے۔ ہم انہیں وہ تصرف عطا کرتے ہیں جن کے ذریعے ہمارا کام چل رہا ہے، جیسے تھائی لینڈ، سری لنکا وغیرہ میں۔ وہی لوگ بعد میں میری نشاندہی کریں گے اور اسی وقت لوگ مجھے تسلیم کریں گے۔

سوال:     آپ اس وقت ترجمان کے ذریعے گفتگو کر رہے ہیں، حضرت عیسیٰؑ نے آپ سے کس زبان میں بات کی؟

جواب:    انہوں نے مجھ سے اردو ہی میں گفتگو کی۔ میں نے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ میں ہر زبان سیکھ کر آیا ہوں۔

سوال:     حضرت عیسیٰؑ نے آپ کو کیوں چنا اور ان کا پیغام آپ کے لیے کیا تھا؟

جواب:    ان کا پیغام یہی تھا کہ جس طرح تم محبت کا مشن لے کر کام کر رہے ہو، اسی طرح میرا بھی ایک مشن ہے، اور ایک دن ہمیں مل کر یہ کام کرنا ہے۔

سوال:     آپ کے اشتہار میں لکھا ہے کہ آپ اس سال کے آخر میں ایک عالمی خطاب کریں گے جو پوپ کے خطاب کے بعد ہوگا۔ مجھے علم نہیں تھا کہ پوپ بھی اس سال کوئی خطاب کریں گے۔ کیا واقعی پوپ اکتوبر میں خطاب کریں گے؟

جواب:    جب پوپ خطاب کریں گے تو وہ اپنے عیسائیوں کے لیے ہوگا، اور اس کے بعد ہمارا خطاب ہوگا جو مسلمانوں کے لیے ہوگا۔

سوال:     آپ کے بہت سے ماننے والے پیدائشی مسلمان ہیں، لیکن جو مسلمان نہیں ہیں وہ آپ تک کیسے پہنچتے ہیں اور آپ کا پیغام کیسے پاتے ہیں؟
جواب:    ہم انہیں دل کی دھڑکنوں کے ذریعے اللہ اللہ سکھاتے ہیں۔ جب اللہ اللہ خود بخود ہونے لگتا ہے تو وہ ہم پر یقین کر لیتے ہیں اور ہمارے عقیدت مند بن جاتے ہیں۔

سوال:     کچھ لوگ جو آپ کو نہیں مانتے، انہوں نے آپ پر پیٹرول بم پھینکا اور آپ کی عمارت کو نقصان بھی پہنچایا؟

جواب:    ہر مذہب میں دو طرح کی طاقتیں ہوتی ہیں، کچھ لوگ مانتے ہیں اور کچھ نہیں مانتے۔

سوال:     یہ جو تصویر پوسٹر پر لگی ہوئی ہے، کیا یہ حضرت عیسیٰؑ کی ہے؟

جواب:    جی ہاں، یہ بالکل حضرت عیسیٰؑ کی تصویر ہے۔ مزید یہ کہ بعد میں جب میں ہوسٹن گیا تو وہاں ایک خاتون کے پاس یہی تصویر موجود تھی۔ میں نے فوراً پہچان لیا کہ یہ وہی شخصیت ہے جو مجھے ہوٹل میں ملی تھی۔ چاند پر بھی کچھ چہرے نظر آتے ہیں، جن میں ایک چہرہ حضرت عیسیٰؑ کا بھی ہے، اور وہ اسی تصویر سے ملتا ہے۔

سوال:     کیا مطلب کہ چاند پر بھی تصویر ہے؟

جواب:    جی ہاں، چاند پر ہے۔ جب لوگ ہمارے پاس آتے ہیں تو ہم انہیں دکھاتے ہیں کہ یہ حضرت عیسیٰؑ ہیں۔

سوال:     کیا یہ سب دھوکا یا فریب نہیں ہو سکتا؟ ممکن ہے میکسیکو میں آپ کو یہ گمان ہوا ہو کہ آپ کی حضرت عیسیٰؑ سے ملاقات ہوئی، اور چاند والی تصویر بھی دھوکا ہو؟

جواب:    روحانی روشنی میں دھوکا نہیں ہو سکتا، اور چاند پر بھی دھوکا ممکن نہیں، کیونکہ ہم نے تصویر خود دیکھی ہے۔ وہ تصویر ان سے بھی ملتی ہے اور چاند سے بھی، اور ہم نے یہی دیکھا ہے۔

سوال:     وہ تصویر جو اس عورت کے پاس تھی، اس نے کہاں سے حاصل کی؟

جواب:    اس نے بتایا کہ ہمارے کچھ لوگ مقدس مقامات پر گئے تھے، وہاں انہوں نے کچھ تصاویر لیں اور ان میں یہ تصویر بھی آ گئی۔ یہ تصویر خاص طور پر کھینچی نہیں گئی تھی۔ اس سے پہلے بھی ہم نے ایک رسالے میں یہ تصویر دیکھی تھی، جس میں امریکہ کے حوالے سے لکھا تھا کہ یہ شخص ہسپتالوں میں جا کر دم وغیرہ کرتا ہے اور لوگ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ ہم نے وہاں سے بھی تصویر لی تھی، اور وہ بھی اسی سے ملتی تھی۔

Similar Posts

  • یونس کے حوالے سے سرکاری عوامی وضاحت اور فراڈ سے متعلق انتباہ

    سرکاری عوامی وضاحت حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کے نام کے غیر مجاز دعووں، نمائندگی اور استعمال کے حوالے سے اہم عوامی اطلاع فراڈ سے متعلق انتباہ اور عوامی اطلاع عالمی روحانی تحریک انجمن سرفروشانِ اسلام پاکستان (1975 رجسٹرڈ) اور حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کے خاندان…

  • دینِ الٰہی

    ### ﴿دینِ الٰہی﴾

    **بے بنیاد الزامات کے بعد مقدمہ خارج**

    مورخہ **22 اپریل 2000ء** کو حضرت سیدنا **ریاض احمد گوہر شاہیؒ** کی تصنیف **’’دینِ الٰہی‘‘** کے خلاف بعض حلقوں کی جانب سے الزامات عائد کیے گئے، جس کے نتیجے میں ایک پرنٹنگ پریس پر چھاپہ مارا گیا اور **سخی پیر پولیس اسٹیشن** میں ایف آئی آر درج کی گئی۔

    بعد ازاں معاملے کی عدالتی کارروائی میں دستیاب شواہد اور ریکارڈ کا جائزہ لیا گیا، اور مورخہ **15 دسمبر 2003ء** کو **عدمِ ثبوت کی بنیاد پر مقدمہ خارج کر دیا گیا۔**

    یہ وضاحتی نوٹ عوام اور میڈیا کے سامنے اس معاملے کے قانونی ریکارڈ اور اصل پسِ منظر کو واضح کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے، تاکہ یکطرفہ یا غلط تاثر سے اجتناب کیا جا سکے۔

  • (بنیادی غلط فہمی:  پاروں کی تعداد)

    سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ: قرآنِ مجید کی ظاہری، مکتوب اور مدوَّن شکل میں پارے صرف 30 ہی ہیں۔اس پر امتِ مسلمہ، صحابہؓ، تابعینؒ، ائمۂ فقہ، محدثینؒ اور مفسرینؒ سب کا اجماع ہے۔حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرآن کو تلاوت کی سہولت کیلئے 30 حصوں (پاروں) میں تقسیم کیا گیا،…

  • اسلامی نظریاتی کونسل

    موضوع: آئینِ پاکستان 1973ء کے باب نمبر 1 کے تحت ہمارے بنیادی مذہبی حقوق کے تعین اور اعلانیہ وضاحت کے لیے درخواست باادب گزارش ہے کہ: 1۔ یہ کہ درخواست گزار کا نام حامد ریاض صاحب ہے، جو ہمارے روحانی رہنما (مرشد پاک) حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی رحمۃ اللہ علیہ کے حقیقی فرزند…

  • :کرشمہ قدرت

    چاند اور حجرِ اسود پر حضرت گوہر شاہیؒ کی تصاویر کے ظاہر ہونے کے حوالے سے سامنے آنے والے دعووں نے عوامی توجہ حاصل کی ہے اور ایسے سوالات کو جنم دیا ہے جن پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔ حضرت گوہر شاہیؒ کی تعلیماتِ محبتِ الٰہی، امن اور خدمتِ انسانیت نے مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کیا اور باہمی ہم آہنگی، رواداری اور احترام کی عملی مثال پیش کی۔ ان نشانیوں کے حوالے سے پائے جانے والے خدشات کے پیشِ نظر، ہم حکومتِ پاکستان اور متعلقہ حکام سے پُرزور اپیل کرتے ہیں کہ ان معاملات کی غیر جانب دارانہ، شفاف اور جامع تحقیقات کروائی جائیں، تاکہ عوامی خدشات کا ازالہ ہو اور حقیقت کو سمجھنے میں مدد مل سکے۔