دینِ الٰہی

تصنیف (دین الہی) پر بے بنیاد الزامات کی بنیاد پر مقدمہ/عدالتی تفتیش کے بعد مقدمہ خارج
مورخہ 22 اپریل 2000ء کو عالمی مجلس تحفظ ختمِ نبوت (مرکزی کنوینئر، حیدرآباد) اور سپاہِ صحابہ حیدرآباد کے امیر کی جانب سے حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ کی تصنیف “دینِ الٰہی” کے خلاف من گھڑت، بے بنیاد اور جھوٹے الزامات عائد کیے گئے۔ ان الزامات کی بنیاد پر ایک پرنٹنگ پریس پر چھاپہ ڈالا گیا اور سخی پیر پولیس اسٹیشن میں ایک ایف آئی آر درج کی گئی۔
بعد ازاں اس معاملے کی مکمل اور تفصیلی عدالتی تفتیش عمل میں لائی گئی۔ تمام دستیاب شواہد، ریکارڈ اور دلائل کا جائزہ لینے کے بعد، معزز عدالت نے عدمِ ثبوت کی بنیاد پر مورخہ 15 دسمبر 2003ء کو مذکورہ مقدمہ خارج کر دیا۔
لہٰذا یہ امر قانونی طور پر ثابت ہو چکا ہے کہ حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ کی تصنیف “دینِ الٰہی” کے خلاف عائد کیے گئے الزامات بے بنیاد تھے اور ان کا کوئی قانونی یا عدالتی جواز موجود نہیں تھا۔
یہ وضاحتی نوٹ اس لیے جاری کیا جا رہا ہے تاکہ عوام، میڈیا اور متعلقہ حلقوں کے سامنے درست حقائق ریکارڈ پر آ سکیں اور کسی
بھی قسم کی غلط فہمی یا یکطرفہ تاثر کا ازالہ کیا جا سکے۔
(متعلقہ ایف آئی آر اور عدالتی فیصلے کی مصدقہ نقول بطورِ ثبوت ساتھ منسلک ہیں)







