(بنیادی غلط فہمی: پاروں کی تعداد)

سب سے پہلے یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ:
قرآنِ مجید کی ظاہری، مکتوب اور مدوَّن شکل میں پارے صرف 30 ہی ہیں۔اس پر امتِ مسلمہ، صحابہؓ، تابعینؒ، ائمۂ فقہ، محدثینؒ اور مفسرینؒ سب کا اجماع ہے۔حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں قرآن کو تلاوت کی سہولت کیلئے 30 حصوں (پاروں) میں تقسیم کیا گیا، یہ تقسیم ادبی یا مضمونی نہیں بلکہ انتظامی ہے۔لہٰذا اگر کوئی یہ سمجھے کہ ظاہری طور پر قرآن کے 30 سے زائد پارے ہیں تو یہ بات درست نہیں۔
حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ کے خطاب میں جس ’’دس پاروں‘‘ کا ذکر ہے، وہ ظاہری قرآن کے پارے نہیں، بلکہ باطنی علومِ قرآن، اسرارِ الٰہی اور مراتبِ قلب و روح کی طرف اشارہ ہے۔اہلِ تصوف کے ہاں قرآن کے ظاہری الفاظ کے ساتھ اس کے باطنی معانی، انوار اور اسرار بھی ہوتے ہیں، جیسا کہ حضرت علیؓ کا قول منسوب ہے کہ ’’قرآن کے ظاہر بھی ہیں اور باطن بھی اور اس باطن کے بھی کئی باطن ہیں‘‘۔
حضرت گوہر شاہیؒ نے جس حدیث کے مفہوم کی طرف اشارہ کیا؛
’’میں نے تین علم حاصل کیے، ایک عام کیلئے، ایک خاص کیلئےاور ایک صرف میرے لیے‘‘
یہ تقسیم: (علمِ شریعت (عام لوگوں کیلئے، (علمِ طریقت و معرفت (خاص لوگوں کیلئےاور )علمِ سرِّ الٰہی) خاص الخاص۔
اسی تناظر میں: 30 پارے ، عام لوگوں کیلئے (سفید کاغذ پر لکھا قرآن) اور 10 پارے ، خاص لوگوں کیلئے (سفید دل پر نازل ہونے والا قرآن)۔
حضرت سلطان حق باھوؒ کا فرمان: ’’مختلف درجات کی چالیس چابیاں ہیں اور چالیس ہی قرآن مجید کے پارے ہیں‘‘ (صفحہ160، اسرارِ قادری )
یہاں بھی چالیس پارے سے مراد ظاہری مصحف نہیں،بلکہ چالیس روحانی درجات، منازل اور اسرار ہیں۔اہلِ تصوف کے ہاں عددی تعبیر30)، 40، 7، 12(اکثر علامتی (Symbolic) ہوتی ہے، نہ کہ فقہی یا تدوینی۔
قرآنِ مجید کے ظاہری پارے صرف 30 ہیں،حضرت گوہر شاہیؒ کا بیان باطنی علومِ قرآن کے حوالے سے ہے،’’دس پارے‘‘ کوئی نیا قرآن یا اضافہ نہیں، یہ علم سینہ بہ سینہ، تزکیۂ قلب اور ذکرِ الٰہی سے حاصل ہوتا ہے،اعتراض اس وقت پیدا ہوتا ہے جب تصوف کی اصطلاحات کو شریعت کے پیمانے سے ناپا جائے۔
(حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ کا ’’امام بارگاہ نور ایمان‘‘ کا خطاب اور حضرت سلطان حق باھوؒ کی کتاب ’’اسرار قادری‘‘ درج ذیل ہے۔)

خطاب بمقام: (امام بارگاہ نورِ ایمان ناظم آباد کراچی)
مورخہ: 27-09-1997
حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہیؒ نے اپنے خطاب کے دوران فرمایا کہ،محسنِ انسانیت حضرت محمد مصطفیٰﷺفرماتے ہیں کہ میں نے 3تین علم حاصل کئے،ایک عام لوگوں کیلئے، ایک خاص کیلئےاور ایک صرف میرے لئے۔ہمیں ایک شعیہ عالم ملا، وہ کہنے لگا کہ 40چالیس پارے ہیں، ہم نے کہا کہ ہم نے تو 30تیس سنیں ہیں اور 30تیس ہی پڑھے ہیں،وہ کہنے لگا 10دس اور ہیں ، ہم نے کہا بتاو،لاکھ دولاکھ لے لو ہم کو لاکردو،کہنے لگا وہ قیمت سے نہیں ملتےوہ محنت سے نہیں ملتےوہ قسمت سے ملتے ہیں۔ اور جنکو وہ مل جاتے ہیں وہ داتا صاحب ؒ اور خواجہ صاحبؒ بن جاتے ہیں۔ہم نے کہا کہ یہ عالم صاحب خوامخواہ ہم کو الجھا رہے ہیں، کہ دس پارے تو ہے ہی نہیں،آخر ایک دن ہوا کہ اللہ نے توفیق دی ہم جنگلوں میں چلے گئے لعل شہباز قلندرؒ کے دربار پر آئے یہاں انہوں نے اللہ اللہ سکھایا دل کو اللہ اللہ سکھایا دل سے اللہ اللہ کرنا شروع کردیا پھر جب دل سے اللہ اللہ شروع کردیا تب باطنی مخلوقات سامنے آگئیں اور وہ دس پارے بھی سامنے آگئے، اب وہ جو دس پارے ہیں اسکی تشریح بھی ضروری ہے کہ وہ دس پارے کیا ہیں۔
یہ جو قرآن آیا یہ پاروں کی شکل میں نہیں آیا، کبھی تھوڑا کبھی زیادہ اسی طرح کئی سال میں یہ پورا ہوا، اس لئے حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ہرروز ایک پڑھنے کیلئے ایک حصہ کیا اور اس پورے کے تیس حصے بنادئیے، آپ دیکھیں گے کہ کسی ایک جگہ پارا ختم نہیں ہورہا تو اسکو پارا بنادیاگیایعنی مضمون ختم نہیں ہورہا اسکو پارا بنادیا گیااسی طرح اس کے تیس حصے بنادئیے گئے، اب وہ دس حصے کون سے ہیں؟
حضرت آدم ؑ کو قلب کی نبوت ملی تھی اس میں آدھی ان کیلئے آدھی انکے ولیوں کیلئے ، پھر ابراھیم ؑ کو روح کی ولایت اور ملی آدھی ان کیلئے آدھی انکے ولیوں کیلئے،پھر موسیٰؑ کو سری کی نبوت ملی آدھی ان کیلئے اور آدھی انکے ولیوں کیلئے،پھر عیسیٰؑ کو خفی کے چاروں ملے آدھا ان کیلئے آدھا انکے ولیوں کیلئےپھر حضور پاک ﷺ کو پانچوں کا سارا علم حاصل ہوگیاآدھا انکے لئے اور آدھا انکے ولیوں کیلئے۔ اور دس حصے تو وہ ہوگئے جو باطن میں تھے وہ سینہ ب سینہ چلتے ہیں نا، یہ تیس پارے عام لوگوں کیلئے ہیں اسکے لئے سفید کاغذ لانا پڑتا ہے اور دس پارے خاص لوگوں کیلئے ہیں ان کیلئے سفید دل لگانا پڑتا ہے۔
(حضرت سلطان حق باھو ؒ بیان فرماتے ہیں کہ مختلف درجات کی چالیس چابیاں ہیں اور چالیس ہی قرآن مجید کے پارے ہیں،تیس حروف ہیں، ہر ایک سے تیس علم، تیس حکمات، تیس خزانے حاصل ہوتے ہیں۔)
حوالہ: اسرارِ قادری، خزینہ حیدری،مترجم ابوالطیف محمد شریف عارف نوری نقشبندی
(Page-160)
اشاعت بار اول: یکم ستمبر 1994
















