زمانے کو سیاست کی نہیں روحانیت کی ضرورت ہے

زمانے کو سیاست کی نہیں روحانیت کی ضرورت ہے۔

یہ ایک بہت ہی گہرا اور فکر انگیز جملہ ہے، جو موجودہ دور کے انتشار اور بے چینی کا درست نقشہ کھینچتا ہے۔ جب ہم کہتے ہیں کہ "زمانے کو سیاست کی نہیں، روحانیت کی ضرورت ہے” تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ نظم و ضبط یا انتظام کی ضرورت نہیں، بلکہ یہ کہ مسائل کا حل بیرونی نظام کی تبدیلی میں نہیں بلکہ انسان کی اندرونی تبدیلی میں ہے۔

اس خیال کی اہمیت درج ذیل نکات سے سمجھی جا سکتی ہے

۱. سیاست تقسیم کرتی ہے، روحانیت جوڑتی ہے

سیاست کا مروجہ طریقہ کار اکثر "ہم اور وہ” کی بنیاد پر ہوتا ہے، جس سے معاشرے میں گروہ بندی اور نفرت جنم لیتی ہے۔ اس کے برعکس، روحانیت انسان کو اپنی اصل سے جوڑتی ہے اور دوسرے انسانوں کے لیے ہمدردی، محبت اور وحدت کا سبق دیتی ہے۔

۲. مادیت پرستی کا علاج

آج کا دور مادیت کا دور ہے، جہاں انسان صرف اشیاء کے پیچھے بھاگ رہا ہے۔ سیاست اکثر انہی مادی وسائل کی تقسیم کی جنگ ہے، جبکہ روحانیت انسان کو قناعت اور سکونِ قلب سکھاتی ہے، جو کہ حقیقی خوشی کی بنیاد ہے۔

۳. کردار کی تعمیر

سیاست قوانین بدل سکتی ہے، لیکن نیتیں نہیں بدل سکتی۔ روحانیت انسان کے اخلاق اور ضمیر کو بیدار کرتی ہے۔ جب ایک معاشرے کے افراد اندرونی طور پر پاکیزہ ہوتے ہیں، تو وہاں ناانصافی اور کرپشن خود بخود ختم ہونے لگتی ہے۔

۴. بے چینی اور ذہنی دباؤ کا حل

جدید دور میں ٹیکنالوجی اور آسائشوں کے باوجود انسان ذہنی طور پر پریشان ہے۔ اس کی وجہ روح کی پیاس ہے۔ روحانیت انسان کو اس کے مقصدِ حیات سے روشناس کرواتی ہے، جس سے زندگی میں ٹھہراؤ اور سکون آتا ہے۔

خلاصہ:

سیاست جسم کا انتظام ہے، جبکہ روحانیت روح کی غذا۔ جب تک روح پیاسی رہے گی، جسمانی انتظام (سیاست) کبھی بھی مکمل امن اور خوشحالی نہیں لا سکتا۔ جیسا کہ علامہ اقبال نے بھی کہا تھا کہ اگر دین (روحانیت) کو سیاست سے جدا کر دیا جائے تو صرف "چنگیزی” (ظلم و بربریت) باقی رہ جاتی ہے۔