تصانیف


حضراتِ محترم!

کائنات میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے ہدایتِ انسانیت کے لیے وقتاً فوقتاً انبیائے کرام مبعوث فرمائے، اور نبیٔ آخرالزماں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی آمد کے ساتھ ہی سلسلۂ نبوت کو مکمل فرما دیا۔ آپ ﷺ کے بعد آپ کی ظاہری و باطنی تعلیمات کی روشنی میں خلافتِ راشدہ، ائمۂ واصلین اور مقتدأ کاملین کا دور شروع ہوا، جنہوں نے امتِ مسلمہ کی رہبری اور اصلاح کا فریضہ سرانجام دیا۔

اس کے بعد ولایت کا وہ دور شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ ہر زمانے میں اللہ تعالیٰ امت کی ہدایت، اصلاح اور رہنمائی کے لیے اپنے خاص بندوں کو منتخب فرماتا ہے، جو اپنے ظاہری و باطنی تصرفات کے ذریعے بھٹکی ہوئی انسانیت کو راہِ راست پر لاتے ہیں۔

ابتدائی مراحل میں اکثر یہ اللہ کے بندے دنیا سے کنارہ کش ہو کر، عبادات، ریاضات اور مجاہدات کے ذریعے اپنے ربِّ حقیقی سے مضبوط تعلق قائم کرنے کے لیے جنگلوں اور ویرانوں کا رخ کرتے ہیں، تاکہ دنیا کی کوئی رغبت ان کے روحانی سفر میں رکاوٹ نہ بن سکے۔ بعض حضرات اپنی پوری زندگی اسی راہ میں گزار دیتے ہیں، جبکہ کچھ خاص بندوں کو اللہ تعالیٰ تکمیلِ روحانیت کے بعد شہروں میں خلقِ خدا کی ظاہری و باطنی تربیت اور فیض رسانی کے لیے مامور فرما دیتا ہے۔

جب ایک کامل بندۂ خدا تکمیل کے بعد کسی طالبِ حق پر نظرِ کامل ڈالتا ہے تو اس کی تقدیر بدل جاتی ہے۔ اسی سلسلۂ اولیائے کاملین میں انجمن سرفروشانِ اسلام (رجسٹرڈ پاکستان) کے سرپرستِ اعلیٰ حضرت سیدنا ریاض احمد گوہر شاہی مدظلہ العالی بھی شامل ہیں۔ آپ نے اپنی عمر کا بڑا حصہ روحانیت کے حصول اور تکمیل کے لیے جنگلوں میں گزارا، اور جب آپ کو خلقِ خدا کو فیض پہنچانے پر مامور فرمایا گیا تو مختصر عرصے میں بے شمار مرد و خواتین کی زندگیوں میں انقلاب برپا ہوا۔ آپ کی ایک قلندرانہ اور کامل نگاہ سے نہ صرف دلوں کی اصلاح ہوئی بلکہ مردہ قلوب زندہ ہو گئے اور ذکرِ اللہ میں جاری و ساری ہو گئے۔



Scroll to Top